ایران میں مظاہرین بے قابو، ملک بھر میں انٹرنیٹ مکمل بند
اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں معاشی تباہی نے عوام کو حکومت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں انٹرنیٹ پر مکمل بلیک آؤٹ نافذ ہے، جو احتجاج کو روکنے کی حکومت کی آخری کوشش معلوم ہوتی ہے۔
یہ بلیک آؤٹ احتجاج کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی سامنے آیا جب تہران سمیت ایران بھر کے مختلف شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکیں بلاک کر دیں اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
قطری خبر رساں ادارے کے رپورٹر توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے سے دارالحکومت میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
شہر کے مرکزی علاقوں سے گزرتے ہوئے کئی سڑکیں بلاک تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے سنائی دے رہے تھے۔
اسدی نے مزید کہا کہ معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد کو ختم کر دیا ہے، خاص طور پر مزدور اور متوسط طبقات اب روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
مظاہرے دسمبر کے آخر سے جاری ہیں، جو ایرانی ریال کی شدید گراوٹ اور اشیاء کی آسمان کو چھوتی قیمتوں پر شروع ہوئے۔ اب یہ معاشی مطالبات سے آگے نکل کر سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک کم از کم 45 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
جان سے جانے والوں میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تہران، تبریز، اصفہان، مشہد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، اور بازاروں میں تاجر ہڑتال پر ہیں۔
حکومت کی جانب سے مخلوط پیغامات آ رہے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے سیکورٹی فورسز کو انتہائی تحمل کا حکم دیا ہے مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں انٹرنیٹ پر مکمل بلیک آؤٹ نافذ ہے، جو احتجاج کو روکنے کی حکومت کی آخری کوشش معلوم ہوتی ہے۔
یہ بلیک آؤٹ احتجاج کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی سامنے آیا جب تہران سمیت ایران بھر کے مختلف شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکیں بلاک کر دیں اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
قطری خبر رساں ادارے کے رپورٹر توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے سے دارالحکومت میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
شہر کے مرکزی علاقوں سے گزرتے ہوئے کئی سڑکیں بلاک تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے سنائی دے رہے تھے۔
اسدی نے مزید کہا کہ معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد کو ختم کر دیا ہے، خاص طور پر مزدور اور متوسط طبقات اب روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
مظاہرے دسمبر کے آخر سے جاری ہیں، جو ایرانی ریال کی شدید گراوٹ اور اشیاء کی آسمان کو چھوتی قیمتوں پر شروع ہوئے۔ اب یہ معاشی مطالبات سے آگے نکل کر سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک کم از کم 45 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
جان سے جانے والوں میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تہران، تبریز، اصفہان، مشہد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، اور بازاروں میں تاجر ہڑتال پر ہیں۔
حکومت کی جانب سے مخلوط پیغامات آ رہے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے سیکورٹی فورسز کو انتہائی تحمل کا حکم دیا ہے مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
اپنی رائے دیں:
تازہ ترین تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں۔ پہلا تبصرہ کریں!